روا داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی بات کو جائز رکھنا، رو رعایت، رعایت کا رویہّ۔ "دونوں صوبوں کو متحد رکھنے کے لیے گہری فراست تحمل اور سیاسی روا داری کی ضرورت تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، پاکستان کیوں ٹوٹا، ٣ )

اشتقاق

فارسی میں اسم صفت 'روا دار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملا کر بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٢٢ء میں نقشِ فرنگ میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی بات کو جائز رکھنا، رو رعایت، رعایت کا رویہّ۔ "دونوں صوبوں کو متحد رکھنے کے لیے گہری فراست تحمل اور سیاسی روا داری کی ضرورت تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، پاکستان کیوں ٹوٹا، ٣ )

جنس: مؤنث